Brailvi Books

آدابِ طعام
404 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
سبحٰنَ اللہ! یہ تو اچّھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کیلئے درکار ہے ! اِتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن میں بھر کرگوشْتْ اور روٹی لے آیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا، دیکھو تمہیں کِس قَدَر جلد لَوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا!
 (روضُ الریاحین ص۱۵۲)
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوگا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں دی جانے والی چیزہرگزضائِع نہیں ہوتی آخِرت میں اجر و ثواب کی حقدار ی تو ہے ہی ، بعض اَوقات دنیا میں بھی اضافے کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ اس کا نِعمَ البدل عطا کیا جاتا ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں دینے سے بڑھتا ہے گھٹتا نہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار، محبوبِ پرورد گار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا، صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ مُعاف کرنے کی وجہ سے بندے کی عزّت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رِضا کی خاطِر انکساری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے بلندی عطا فرماتا ہے۔
        (صحیح مسلم ص ۱۳۹۷حدیث۲۵۸۸)
Flag Counter