کبھی ذکرو درود میں مشغول ہوتے تو کبھی کلِمہ طیبہ کا وِرْد کرکے اپنے ایمان پر سب کو گواہ بناتے ہوئے STRETCHERپر سُوار اپنے ROOM کی طرف بڑھتے چلے جارہے تھے،
میں اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کا کروڑہا کروڑشکر ادا کرتاہوں کہ اُس نے مجھ جیسے اَدنیٰ کو اتنی عظیم ہستی امیرِ اَہلسنّت ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادِری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ کا دامن نصیب فرمایااور اُن کے مریدوں میں کیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ
مَدَنی مشورہ:جو کسی کا مُرید نہ ہو اُس کی خدمت میں میرا تو مَدَنی مشورہ ہے کہ فی زمانہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسُنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کے وجودِ مبارَک کو غنیمت جانے اور بِلا تاخیر ان کا مُرید ہوجائے۔یقینا مُرید ہونے میں نقصان کا کوئی پہلو ہی نہیں،دونوں جہاں میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ فائدہ ہی فائدہ ہے۔اپنے گھر کے ایک ایک فرد بلکہ اگر ایک دن کا بچہ بھی ہو تو اُسے بھی سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے سلسلے میں داخِل کرکے مُرید بنواکرقادری رضوی عطاری بنادیں۔
امیرِاہلسنّت اپنے مُریدوں سے کس قدر محبت فرماتے ہیں یہ تو آپ پڑھ ہی چکے ہیں کہ نیم بے ہوشی میں بھی وہ اپنے مریدوں کیلئے مغفِرت کی دعائیں مانگتے رہے یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ بقر عید(۱۴۲۳.ھ) میں انہوں نے ایصالِ ثواب کیلئے ایک قربانی اپنے غریب مُریدوں کی طرف سے اورایک قربانی اپنے