| آدابِ مرشدِ کامل |
ميں نے اسے فوراً دونوں مکتوبات پڑھ کر سنائے۔وہ مريد ہوجانے اور مکتوبات کی آمد پر بے حد خوش تھی۔چنانچہ وہ بار بار مکتوبات کو عقیدت سے چومتی اوراپنی آنکھوں سے لگاتی۔ عيادت نامے والے مکتوب میں شرح الصدور کے حوالے سے روايت نقل تھی کہ جو کوئی بيماری ميں
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنّیِ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنo
چاليس بار پڑھے اور اس مَرَض ميں مر جائے تو شہيد ہے اور اگر تندُرُست ہوگيا تو مغفِرت ہوجائے گی۔
ميری ہمشیرہ نے فوراً ۴۰ مرتبہ مذکورہ وظیفہ پڑھ لیا۔ دوسرے ہی دن يکم ربيع الاول ۱۴۲۳ھ 14 مئی2002 کو صبح فجر کے وقت اس کا انتقال ہوگیا۔ ايسا لگتا ہے وہ صرف زمانے کے ولیِ کامل امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستہ ہونے کے انتظار ميں تھی .
الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ولیِ کامل کی مریدنی ہونے کی ایسی بَرَکت ملی کہ ميں نے خود آخری وقت ميں اسے با آوازبلند دو يا تين مرتبہکَلِمَہ طَیِبَہ لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
پڑھتے سنا ۔پھر ہمشیرہ نے خود ہی ہاتھ پاؤں سيدھے کرلئے اور آنکھيں بند کرليں، اس وقت اذان فجر کی آواز آرہی تھی۔(ملخصاً نسبت کی بہاریں ص ۱۴ ) اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد