عظمتِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ حضرت شاہ آلِ رسول قدس سرہ خلافت و اجازت کے معاملے میں بڑے محتاط تھے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کو مرید ہوتے ہی جملہ سلاسل کی اجازت ملی۔ تو خانقاہ کے ایک حاضر باش سے نہ رہا گیا۔ عرْض کیا حضور! آپ کے خاندان میں تو خلافت بڑی ریاضت اور مجاہدے کے بعد دی جاتی ہے۔ ان کو آپ نے فوراً خلافت عطا فرمادی۔ حضرت شاہ آلِ رسول قدس سرہ نے اس شخص سے ارشاد فرمایا لوگ گندے دل اور نفس لے کر آتے ہیں۔ ان کی صفائی پر خاصا وقت لگتا ہے ۔ مگر یہ پاکیزگی نفس کے ساتھ آئے تھے۔ صرف نسبت کی ضَرورت تھی ۔وہ ہم نے عطا کردی۔
پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا، مجھے مدت سے ایک فکر پریشان کئے ہوئے تھی۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ وہ آج دور ہوگئی۔ قِیامت میں جب اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ آلِ رسول (قدس سرہ) ہمارے لئے کیا لایا ہے؟ تو میں اپنے مرید اَحمد رضا خان(علیہ الرحمۃ) کو پیش کردوں گا۔ پھر آپ قدس سرہ نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کو وہ تمام اعمال واشغال عطا