والًا بنا ہے ولی سے بمعنی قرب یا محبت یا تابع ہونا یا سبب لہٰذا اس جملہ کے چار معنی ہیں:وہ حضرات انبیاء و اولیاء جواللّٰہ سے قریب کردیں یا اللّٰہ تعالٰی ان سے محبت کرتا ہے،یا جو ذکر الٰہی سے قریب کردے،یا جو ذکرُ اﷲکے تابع ہے،یا جو ذکرُ اﷲکا سبب ہے۔(اشعہ)یعنی اللّٰہکا ذکر اﷲکے محبوب بندے علما طلبا اگرچہ دنیا میں ہیں مگر دنیا نہیں ہیں یہ تو اللّٰہ کے محبوب ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ اللّٰہ کا ذکر ہر عبادت ہر سعادت کا سر ہے جیسے بدن کے لیے جان ضروری ہے ایسے ہی مؤمن کے لیے ذکرُ ا ﷲ لازمی ہے۔ ذکرُ اﷲسے دنیا کا بقاء آسمان و زمین کا قیام ہے۔(مرقات)جب ذاکرین فنا ہوجائیں گے تو قیامت آجائے گی۔(مراٰۃ المناجیح ،۷/۱۷)
دُنیا کی مذمت(حکایت )
ایک مرتبہرسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا گزر ایک مردہ بکری کے پاس سے ہوا تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استفسار فرمایا(یعنی پوچھا):کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک کس قدر حقیر ہے؟ پھر آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!جس قدر یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر وذلیل ہے، اگر دنیا کی قدر و قیمت اللّٰہعَزَّوَجَلََّّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکافر کو اس