(27) میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں
رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:لَسْتُ مِنَ الدُّنْیَا وَلَیْسَتْ مِنِّییعنی میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں۔ (فردوس الاخبار،۲/۲۱۴، حدیث:۵۳۲۲)
دنیا لعنتی چیز ہے
سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :ہوشیار رہو دنیا لعنتی چیز ہے اور جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے سوائے اللّٰہتعالیٰ کے ذکر کے اور اس کے جو رب کے قریب کردے اور عالم کے اور طالب علم کے۔
(ترمذی،کتاب الزھد،باب ما جاء فی ھوان الدینا علی اللہ،۴/۱۴۴، حدیث: ۲۳۲۹)
دنیا کیا ہے ؟
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانحدیث پاک کے اس حصے ’’جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :جو چیز اللّٰہورسول سے غافل کردے وہ دنیا ہے یا جواللّٰہو رسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے،بال بچوں کی پرورش،غذا لباس،گھر وغیرہ حاصل کرنا سنتِ انبیاء کرام ہے یہ دنیا نہیں۔اس معنی (یعنی جو اللّٰہورسول سے غافل کردے)سے واقعی دنیا اور دنیا والی چیزیں لعنتی ہیں۔(حدیث پاک کے اس حصے’’سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:) یہ چیزیں دنیا نہیں ہیں۔اللّٰہ کے ذکر سے مراد ساری عبادات ہیں۔