Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
90 - 108
(25) ریشم کے لباس اور چاندی کے برتنوں کا استعمال
	سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: مَنْ لَبِسَ الْحَرِیْرَ وَشَرِبَ فِی الْفِضَّۃِ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو ریشم پہنے اور چاندی کے برتنوں میں پئے وہ ہم سے نہیں۔(المعجم الاوسط،۳/۳۵۷،حدیث:۴۸۳۷)
دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں محروم رہے گا
	حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:جو دنیا میں ریشم پہنے گا، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔(بخاری،کتاب اللباس، باب لبس الحریر...إلخ،۴/۵۹،حدیث:۵۸۳۴)
جنتیوں کا لباس
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:یعنی جو مسلمان ناجائز ریشم پہنے وہ اولًا ہی جنت میں نہ جاسکے گا کیونکہ ریشم کا لباس ہر جنتی کو ملے گا وہاں پہنچ کر، رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَلِبَاسُہُمْ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۲۳﴾ ( ترجمہ کنز الایمان:اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے ۔ بعض صورتوں میں اور بعض ریشم مرد کو حلال ہیں ان کے پہننے پر سزا نہیں۔ خیال رہے کہ کیڑے کا ریشم مرد کو حرام ہے،دریائی ریشم یا سن سے بنا ہوا نقلی ریشم حلال ہے کہ وہ ریشم نہیں۔(مراۃ المناجیح ،۶/ ۹۵)
	 مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :جس