چغلی کیا ہے؟
حضرتِ علامہ بدرالدین عینی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوینے’’بخاری شریف‘‘کی شرح میں نقل فرمایا کہ’’ کسی کی بات کودوسرے آدمی تک پہنچانے اور فساد پھیلانے کیلئے بیان کرنا چغلی ہے۔‘‘(عمدۃ القاری، کتاب الوضوئ،باب من الکبائر ۔۔۔الخ،۲/۵۹۴،تحت الحدیث:۲۱۶)
چغلی کا عذاب
خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جھوٹ سے منہ کالا ہوتااور چغلی سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔(شعب الایمان،باب فی حفظ اللسان،۴/۲۰۸،حدیث:۴۸۱۳)
چغل خوری کا وبال
حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیماللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں سخت قحط پڑگیا۔ آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کی ہمراہی میں بارش کے لئے دعا مانگنے چلے لیکن بارش نہ ہوئی آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تین دن تک یہی معمول رکھا لیکن بارش پھر بھی نہ ہوئی۔ پھر اللّٰہتبارک وتعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ! میں تمہاری اور تمہارے ساتھ والوں کی دعا قبول نہیں کروں گا کیونکہ ان میں ایک چغل خور ہے۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیماللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے