Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
86 - 108
 ’’محسود‘‘ کہتے ہیں۔
حسد کی حقیقت
	حسد کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی(مسلمان)بھائی کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت ملتی ہے تو حاسد انسان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس بھائی سے نعمت کا زوال چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کو ملنے والی نعمت کو ناپسند نہیں کرتا اور نہ اس کا زوال چاہتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی ایسی ہی نعمت مل جائے تو اسے رشک کہتے ہیں۔
(احیاء علوم الدین،کتاب ذم الغضب۔۔۔الخ،بیان حقیقۃ الحسد۔۔۔الخ،۳/ ۲۳۴)
حسد ایمان کو بگاڑتا ہے
	رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:حسد ایمان کو ایسا بگاڑتا ہے جیسے ایلوا ( ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رس)شہد کو بگاڑتا ہے۔
(الجامع الصغیر،حدیث:۳۸۱۹،ص۲۳۲) 
ابلیس و فرعون سے بڑھ کر شریرکون؟
	مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابلیس نے فرعون کے دروازے پر آکر دستک دی ، فرعون نے پوچھا : کون ہے ؟ ابلیس نے کہا : اگرتُو خدا ہوتا تو مجھ سے بے خبر نہ ہوتا ، جب اندر داخل ہوا تو فرعون نے کہا : کیا تُو زمین میں اسے جانتا ہے جو تجھ سے اور مجھ سے بڑھ کر شریر ہے ؟ کہنے لگا : ہاں !حسد کرنے والا اور میں حسد کی وجہ سے ہی اس مشقت میں ہوں ۔  (تفسیر کبیر،۱/ ۲۲۶)