بھائی چارہ کس سے کیا جائے؟
حضرت سیِّدُنا علی المرتضیکرّم اللّٰہ تعالی وجہہ الکریمنے فرمایا:فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کریگا (یعنی سنوارے گا)اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا، تیرے پاس اس کا آنا جاناعیب اور شرم کا باعث ہے اور بیوقوف سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ خود کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی تجھے نفع پہنچانا چاہے بھی تونقصان پہنچادے گا، اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کی دُوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر اور جھوٹے سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ معاشرت تجھے نفع نہ دے گی، تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا پھر بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔ (تاریخ دمشق،۴۲/۵۱۶)
بھائی چارے کی سچائی کی علامت
حضرت سیدنافضیل بن عیاض رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :بھائی چارے کی سچائی میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے بھائی کی عزت فقر(محتاجی)کی حالت میں اس سے کہیں زیادہ کرے جتنی عزت اس کی غنا(امیری) کی حالت میں کرتا تھا کیونکہ فقر غنا سے افضل ہے اور اس کا بھائی اپنے فقر کے سبب نہیں بلکہ اپنے مقام ومرتبے کی وجہ سے زیادہ عزت کا مستحق ہے ۔(تنبیہ المغترین،ص ۲۱۰)