طرح توبہ کی ، پھر وہ سب طرطوس گئے اور وہیں شہادت کا رُتبہ پا لیا ۔(روض الریاحین،ص۲۱۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بھائی چارہ کیا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سیِّدُنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہ الوالی اخوت و محبت کے متعلق فرماتے ہیں:بھا ئی چارہ دو آدمیوں کے درمیان ایک رابطہ ہوتا ہے جیسے نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک رابطے کا نام ہے اور جس طرح عقدِنکاح کچھ حقوق کا تقاضا کرتاہے جن کو پورا کرنا حقِ نکاح قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے ، عقدِ اخوّت کا بھی یہی حال ہے۔تمہارے اسلامی بھائی کا تمہارے مال اور تمہاری ذات میں حق ہے اسی طرح زبان او ر دل میں بھی کہ تم اس کو معاف کرو، اس کے لئے دعا کرو، اخلاص و وفا سے پیش آؤ ،اس پر آسانی بَرتو اور تکلیف و تکلُّف کو چھوڑ دو ۔
(احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ۔۔۔الخ،الباب الثانی۔۔۔الخ،۲/ ۲۱۶)
مسلمان سے اُخوّت(بھائی چارہ)اورملاقات کے فضائل
(۱)نام پوچھ لے
رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادہے :جب ایک شخص دوسرے شخص سے بھائی چارہ کرے تو اس کا نام اور اس کے باپ کانام پوچھ