Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
77 - 108
نکاح کرنا کب سنّت ہے ؟
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر مہر، نان و نَفْقہ دینے اورازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہواور شہوت کا بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنت ِ مؤکدہ ہے۔ ایسی حالت میںنکاح  نہ کرنے پر اَڑے رہنا گناہ ہے ۔اگر حرام سے بچنا۔۔ یا۔۔اِتباعِ سنّت ۔۔یا۔۔ اولاد کا حصول پیش ِ نظر ہو توثواب بھی پائے گااور اگر محض حصول ِ لذت یا قضائے شہوت مقصود ہو تو ثواب نہیں ملے گا ،نکاح  بہر حال ہوجائے گا ۔(ماخوذ از بہارشریعت،۲/۴)
نکاح کرنا فرض بھی ہے اور حرام بھی!
	 نکاح کبھی فرض،کبھی واجب ، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے۔چنانچہ اگر یہ یقین ہو کہ نکاح  نہ کرنے کی صورت میں زناء میں مبتلا ہوجائے گا تو نکاح کرنا فرض ہے۔ایسی صورت میں نکاح  نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا۔ اگر مہرونفقہ دینے پر قدرت ہو اور غلبۂ شہوت کے سبب زنا یابدنگاہی یامشت زَنی میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نکاح واجب ہے اگر نہیں کرے گا توگناہ گار ہوگا۔ اگریہ اندیشہ ہو کہنکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح  کرنا مکروہ ہے۔ اگر یہ یقین ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان و نَفْقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح  کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے(ایسی صورت میں شہوت توڑنے کے لئے