لہذا یہ ذہن ہر گز مت بنائیے کہ شادی کرنے سے خرچ بڑھے گا اور تنگدستی کا شکار ہو جاؤں گا ، ا للّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:
وَ اَنۡکِحُوا الْاَیَامٰی مِنۡکُمْ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغْنِہِمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾ (پ۱۸،النور:۳۲)
ترجمہ کنز الایمان:اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللّٰہ انہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اوراللّٰہ وسعت والا علم والا ہے ۔
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :اس سے معلوم ہوا کہ کبھی نکاح غَنَا(خوشحالی)کا سبب ہوجاتاہے کہ اس کے سبب اللّٰہ تعالی فقیر کو غنی کر دیتا ہے ،عورت خوش نصیب ہوتی ہے ۔(نور العرفان،پ۱۸،النور،زیر آیت:۳۲)
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :اس غَنَا (خوشحالی)سے مراد یا قناعت ہے کہ وہ بہترین غَنَا(خوشحالی)ہے جو قانِع (قناعت کرنے والے )کو تَرَدُّدْسے بے نیاز کر دیتا ہے یا کفایت کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے یا زوج و زوجہ کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا فراخی بہ برکتِ نکاح۔(خزائن العرفان ،پ۱۸،النور،زیر آیت:۳۲)