Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
71 - 108
 کچھ یوں تھی:	
سَیَعْلَمُ مَنِ اسْتَخَفَّ بِتُرَابِ        مَا یَلْقٰی غَدًا مِنْ سُوْ ءِ الْحِسَابِ
ترجمہ:جو شخص مٹی کو معمولی سمجھتا ہے اسے عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اسکا حساب کتنا برا ہے۔( احیاء علوم الدین،کتاب النیۃ۔۔۔الخ،بیان تفصیل الاعمال۔۔۔الخ،۵/ ۹۹)
امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ اور ناراض پڑوسی (حکایت )
	شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’جنتی محل کا سودا‘‘ کے صفحہ 33پر لکھتے ہیں:یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں شہید مسجد ،کھارادَر، بابُ المدینہ کراچی میں اِمامت کی سعادت حاصل کرتا تھا،اور ہفتے کے اکثر دن بابُ المدینہ کے مختلف علاقوں کی مسجِدوں میں جا کر سنّتوں بھرے بیانات کر کرکے مسلمانوں کو دعوتِ اسلامی کا تعارُف کروا رہا تھااور اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  مسلمانوں کی ایک تعداد میری دعوت قبول کر چکی تھی اور دعوتِ اسلامی اٹھان لے رہی تھی مگر ابھی دعوتِ اسلامی ایک کمزور پودے ہی کی مِثل تھی ۔واقِعہ یوں ہوا کہ مُوسیٰ لین، لیاری،بابُ المدینہ میں جہاں میری قِیام گاہ تھی وہاں کامیرا ایک پڑوسی کسی ناکردہ خطا کی بناء پر صرف وصرف غَلَط فہمی کے سبب مجھ سے سخت ناراض ہو گیا اور بِپھر کرمجھے ڈھونڈتا ہواشہید مسجد پہنچا۔میں وہاں موجود نہ تھا بلکہ کہیں سنّتوں بھرا بیان کرنے گیا ہوا تھا،لوگوں کے بقول اُس شخص نے مسجِدمیں نمازیوں کے سامنے میرے بارے میں سخت برہمی کا اظہار کیا اور کافی شور مچایا اور اعلان کیا کہ میں الیاس قادری کے