(مرقات){مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:}کہا جاتا ہے ہمسایا اور ماں جایا (یعنی سگا بھائی)برابر ہونے چاہئیں ۔ افسوس مسلمان یہ باتیں بھول گئے قرآنِ کریم میں پڑوسی کے حقوق کا ذکر فرمایا، بہرحال پڑوسی کے حقوق بہت ہیں ان کے ادا کی توفیق رب تعالیٰ سے مانگے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۲)
اچھا کیا یا بُرا؟
ایک شخص نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ و سلَّمکی خدمتِ باعظمت میں عرض کی :یارسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! مجھے کیونکر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برُا؟ارشاد فرمایا:جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا تو بے شک تم نے اچھا کیا، اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برُا کیا تو بیشک تم نے برُا کیا ۔
( ابن ماجہ،کتاب الزہد،باب الثناء الحسن،۴/۴۷۹،حدیث:۴۲۲۳)
د یوار کی مٹی(حکایت )
ایک بزرگ رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں نے کسی کو خط لکھااور اسکی سیاہی پڑوسی کی دیوار کی مٹی سے خشک کرنے لگا ۔میر ے دل نے پڑوسی کی دیوار سے مٹی لینا اچھا نہ سمجھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس معمولی سی مٹی کی کیا حیثیت اور اسکے لئے اجازت لینے کی کیا ضرورت؟ چنانچہ میں نے مٹی لے کر سیاہی کو خشک کرنا شروع کر دیا جب مٹی خط پر ڈالی ایک غیبی آواز نے مجھے چونکا دیا، وہ آواز