پڑوسیوں کو گوشت اور کپڑے دیا کرتے
حضرت ِسیِّدُنا عبداللّٰہ بن ابی بکر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اپنے پڑوس کے گھروں میں سے دائیں بائیں اور آگے پیچھے کے چالیس چالیس گھروں کے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے،عید کے موقع پر انہیں قربانی کا گوشت اور کپڑے بھیجتے اور ہر عید پر سو غلام آزاد کیا کرتے تھے۔(المستطرف،الباب الثالث والثلاثون،۱/۲۷۶)
پڑوسی کے گیارہ حقوق
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :نبی صلّی اللّہ علیہ وآلہٖ وسلّمنے فرمایا:پڑوسی کے گیارہ حق ہیں ( ۱) جب اسے تمہاری مدد کی ضرورت ہو اس کی مدد کرو (۲) اگر معمولی قرض مانگے دے دو ( ۳) اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو (۴) وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی بلکہ ضرورت ہو تیمار داری کرو(۵) مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جائو(۶) اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو (۷) اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو (۸) اپنا مکان اتنا اونچا نہ بنائو کہ اس کی ہوا روک دو مگر اس کی اجازت سے (۹) گھر میں پھل فروٹ آئے تو اسے ہدیۃ بھیجتے رہو، نہ بھیج سکو تو خفیہ رکھو اس پر ظاہر نہ ہونے دو، تمہارے بچے اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں(۱۰) اپنے گھر کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ دو(۱۱) اپنے گھر کی چھت پر ایسے نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔ قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللّٰہرحم فرمائے