Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
68 - 108
 سلام کہدوں گا کہ اس وقت یہ سلام اس کے پاس امانت ہے جو اس کا حقدار ہے اس کو دینا ہی ہو گا ورنہ یہ بمنزلہ ودیعت ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں کہ سلام پہنچانے وہاں جائے ۔ اسی طرح حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّمکے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے ( یعنی جب کہ التزام کیا ہو)۔
(۵)خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلامُ عَلَیْکُمْ  لکھا ہوتا ہے اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔ (بہار شریعت ،۳/۴۶۰ تا۴۶۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(19)پڑوسی کا حق ضائع کرنے والا ہم سے نہیں
	 رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:فَمَنْ یُضِیْعُ حَقَّ جَارِہٖ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو اپنے پڑوسی کا حق تلف کرے ’’وہ ہم سے نہیں۔‘‘(المطالب العالیہ،کتاب الادب،باب جمل من الادب، ۷/۱۱۸،حدیث:۲۶۰۴)