سلام کہدوں گا کہ اس وقت یہ سلام اس کے پاس امانت ہے جو اس کا حقدار ہے اس کو دینا ہی ہو گا ورنہ یہ بمنزلہ ودیعت ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں کہ سلام پہنچانے وہاں جائے ۔ اسی طرح حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّمکے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے ( یعنی جب کہ التزام کیا ہو)۔
(۵)خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلامُ عَلَیْکُمْ لکھا ہوتا ہے اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔ (بہار شریعت ،۳/۴۶۰ تا۴۶۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(19)پڑوسی کا حق ضائع کرنے والا ہم سے نہیں
رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:فَمَنْ یُضِیْعُ حَقَّ جَارِہٖ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو اپنے پڑوسی کا حق تلف کرے ’’وہ ہم سے نہیں۔‘‘(المطالب العالیہ،کتاب الادب،باب جمل من الادب، ۷/۱۱۸،حدیث:۲۶۰۴)