(17)بدلہ لینے کے خوف سے سانپ نہ مارنے والا ہم سے نہیں
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: مَنْ رَأَیَ حَیَّۃً فَلَمْ یَقْتُلْہَا مَخَافَۃَ طَلْبِہَا فَلَیْسَ مِنَّایعنی جوسانپ دیکھے پھربدلہ کے خوف سے اسے نہ مارے وہ ہم سے نہیں۔(المعجم الکبیر،۷/۷۸،حدیث:۶۴۲۵ )
کیاسانپ کو مارنے والے سے اس کی ناگنی بدلہ لیتی ہے؟
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :یعنی ہماری سنت کا تارِک ہے۔پہلے جہلائِ عرب کہتے تھے اور جہلائِ ہند اب تک کہتے ہیں کہ سانپ کو مارنے والے سے اس کی ناگنی بدلہ لیتی ہے اس لئے سانپ کو مت مارو۔اس فرمان عالی میں اسی خیال کی تردید ہے بھلا سانپنی یعنی ناگن کو کیا خبر کہ کس نے مارا ہے؟لوگوں میں مشہور ہے کہ مارے ہوئے سانپ کی آنکھوں میں مارنے والے کا فوٹو آجاتا ہے اس فوٹو سے ناگن، قاتل کو پہچان لیتی ہے اس لئے سانپ کو مارکر اس کا سر جلا دیا جاتا ہے تاکہ آنکھوں میں فوٹو نہ رہے مگر یہ بھی غلط ہے اس کا سر جلادینا اسے مار ڈالنے کے لئے ہے، وہ لاٹھی کھاکر بیہوش ہوجاتا ہے لوگ مردہ سمجھ کرچھوڑ دیتے ہیں،وہ کچھ عرصہ بعد پھر ہوش میں آکر چلا جاتا ہے آگ میں جلانا اس لیے ہے تاکہ واقعی مر جائے۔خیال رہے کہ جب تک سانپ اُلٹا نہ پڑ جائے کہ پیٹ اوپر آجائے تب تک وہ زندہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،۵/ ۶۷۸)