غم سہنے کا ذہن بنا لیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں ہر مصیبت پر صبر کرنا چاہئے اور ثواب کا حق دار بننا چاہئے ،مصیبت پر صبر کیلئے خود کو تیارکرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی مصیبتوں کا پہلے ہی سے تصوُّر کر کے صبر کا عزم کر لیا جائے ۔ مثلاً یہ تصور کر لیا جائے کہ اگر گھر میں میرے جیتے جی کسی کی فوتگی ہو گئی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ میں صبر کروں گا ، ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین فرمایا کرتے :’’جس کو صبر نہ آئے وہ تکلفاً صبر اختیار کرے ۔‘‘ نیز پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :جو تکلفاً صبر کرے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کو صبر عطا فر ما دے گا اور کسی کو صبر سے بڑھ کر خیر اور وسعت والی چیز عطا نہیں کی گئی۔(بخاری،کتاب الزکوۃ،باب الاستعفاف عن المسا ئلۃ،۱/ ۴۹۶،حدیث:۱۴۶۹)
جنات نے غم خواری کی (حکایت )
حضرت ابو خلیفہ عبدی علیہ رحمۃا للّٰہ الھادی فرماتے ہیں کہ میرا چھوٹا سابچہ فوت ہوگیا جس کا مجھے بہت سخت صدمہ ہوا اورمیر ی نیند اچاٹ ہوگئی۔ خدا کی قسم!میں ایک رات اپنے گھر میں اپنے بستر پر تھا ۔میرے علاوہ گھر میں کوئی نہ تھا ۔میں اپنے بیٹے کی سوچوں میں گُم تھا کہ اچانک گھر کے ایک کونے سے کسی نے بڑے پیار سے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ یَا اَبَا خَلِیْفَۃَ ۔میں نے گھبراہٹ کے عالم میں کہا وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ۔ پھر اس نے سورئہ آل عمران کی آخری آیتیں