حدیث:۹۲۶ ملخصا)اِس سے معلوم ہوا کہ ا گر آدمی صبر کرے تو ہوسکتا ہے ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص۴۰۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(15)مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والاہم سے نہیں
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَیعنی جو سر منڈائے،چیخیں مار ے اورکپڑے پھاڑے وہ ہم سے نہیں۔(ابوداؤد، کتاب الجنائز،باب فی النوح،۳/۲۶۰،حدیث:۳۱۳۰)
سر منڈانے سے مراد موت پر غم کے لئے سر منڈانا مراد ہے، مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان ’’جوسر منڈائے‘‘کے تحت لکھتے ہیں :اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عرب میں بھی کسی کی موت پر سر منڈانے کا رواج تھا۔ {مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:}خیال رہے کہ صحابہ کرام ایسی حالت میں تبلیغ اور اپنے بال بچوں کی اِصلاح سے غافِل نہیں رہتے تھے۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۵۰۲۔۵۰۳)
میں اس سے بیزارہوں
رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:میںاس سے بیزارہوں جوسر منڈائے اور چلاکر روئے اور گریبان چاک