کیا عزیز کی موت پرصبر کرنا مشکل ہے ؟(حکایت )
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ404پر ہے: کہ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن سے عرض کی گئی کہ اگر بے اِختیاری میں اپنے عزیز کی مَوت پرصَبْر نہ کرے تو جائِز ہوگا؟ ارشاد فرمایا: بے اِختیاری بنالیتے ہیں ورنہ اَگر طبیعت کو روکا جائے تو یقین ہے کہ صَبْر ہوسکتا ہے۔ حُضُوْر اَقدسصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لئے جارہے تھے راہ میں ملاحظہ فرمایا کہ ایک عورت اپنے لڑکے کی مَوت پر نَوْحَہ کررہی ہے حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے منع فرمایا اور اِرشاد فرمایا:’’ صَبْرکر۔‘‘ وہ اپنے حال میں ایسی بے خَبَر تھی کہ اس کو نہ معلوم ہوا کون فرما رہے ہیں جواب بِے ہودَہ دیا کہ آپ تشریف لے جائیں مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) تشریف لے گئے بعد کو لوگوں نے اس سے کہا کہ حضور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے منع فرمایا تھا۔ وہ گھبرائی اور فوراً دربار میں حاضِر ہوئی اور عرض کیا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!مجھے معلوم نہ ہوا کہ حضور منع فرمارہے ہیں اب میں صبر کرتی ہوں۔ اِرشاد فرمایا: ’’ الصَّبرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْا ُوْلٰی‘‘ (صبر پہلی ہی بار کرتی تو ثواب ملتا پھر تو صبر آ ہی جاتا ہے۔) (مسلم،کتاب الجنائز،باب فی الصبر۔۔۔الخ،ص۴۶۰،