آواز سے رونا منع ہے
آواز سے رونا منع ہے اور آواز بلند نہ ہو تو اس کی ممانعت نہیں،بلکہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی وفات پر بُکا فرمایا۔ ( بہار شریعت ،۱/۸۵۵)
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے(حکایت )
حضرتِ سیِّدُناانس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا بیان ہے کہ ہم رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ حضرت ابوسیف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہجان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت،محسنِ انسانیتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس وقت حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے عرض کی : یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا کہ اے ابنِ عوف ! میرا رونا شفقت کی وجہ سے ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہے تو آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے :’’ اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَیعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب عَزَّوَجَلَّخوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت