Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
55 - 108
(14)بے صبری کرنے والا ہم میں سے نہیں
	خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہیلَیْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُوْدَ وَشَقَّ الْجُیُوْبَ وَدَعَا بِدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ یعنی جو اپنے منہ پرطمانچے مارے، گریبان چاک کرے اور زمانہ جاہلیت کی طرح واویلا مچائے وہ ہم سے نہیں۔(بخاری، کتاب الجنائز،باب لیس منا من ضرب الخدود،۱/۴۳۹،حدیث:۱۲۹۷)
 	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : میت وغیرہ پر منہ  پیٹنے کپڑے پھاڑنے رب تعالیٰ کی شکایت بے صبری کی بکواس کرنے والا ہماری جماعت یا ہمارے طریقے والوں سے نہیں ہے یہ کام حرام ہیں ان کا کرنے والا سخت مجرم (ہے) (مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:)اس حدیث کی تائید قرآن کریم فرمارہا ہے:
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۵﴾ۙ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ (پ۲،البقرۃ:۱۵۶)
( ترجمہ کنز الایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللّٰہ  کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔)
اسی لئے شہدائے کر بلا کے اہل بیت اطہار (عَلَیْہِمُ الرِّضوَان)نے تازِیست (یعنی زندگی بھر)یہ حرکتیں نہ کیں۔ (مراٰۃ المناجیح ،۲/۵۰۲)