Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
54 - 108
 ہیں:تم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا، شُرَفاء کی عزت اوراہلِ علم کی تعظیم وتوقیر کرنا ، بڑوں کاادب واحترام اور چھوٹوں سے پیارومحبت کرنا، عام لوگو ں سے تعلق قائم کرنا،فاسق وفاجر کو ذلیل ورُسوا نہ کرنا، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، سلطان کی اِہانت کرنے سے بچنا، کسی کوبھی حقیر نہ سمجھنا، اپنے اخلاق و عادات میں کوتاہی نہ کرنا، کسی پر اپنا راز ظاہر نہ کرنا، بغیر آزمائے کسی کی صحبت پر بھروسہ نہ کرنا، کسی ذلیل وگھٹیاشخص کی تعریف نہ کرنااورکسی ایسی چیزسے محبت نہ کرنا جوتمہارے ظاہری حال کے خلاف ہو۔( امام اعظم کی وصیتیں،ص۲۷(
عالم کی عزت(حکایت)
	خلیفۂ بغداد ہارون رشید نے ایک مرتبہ مشہورعالم حدیث حضرت سیِّدُنا ابو معاویہ محمد ضریر علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ القدیر کی دعوت کی۔ وہ آنکھوں سے معذور تھے جب لوٹا اور چلمچی ہاتھ دھلانے کے لیے لائی گئی تو خلیفہ نے چلمچی تو خدمت گار کو دی اور خود لوٹا ہاتھ میں لے کرحضرت سیِّدُنا ابو معاویہ محمد ضریر علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ القدیر کا ہاتھ دھلانے لگا اور کہا کہ اے ابو معاویہ ! آپ نے پہچانا کہ کون آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا :نہیں، خلیفہ نے کہا: ہارون ! یہ سن کر ابو معاویہ کے دل سے یہ دعا نکلی کہ جیسی آپ نے علم کی عزت کی ایسی ہی اللّٰہ تعالٰی آپ کی عزت فرمائے، ہارون رشید نے کہا : ابو معاویہ ! بس آپ کی اسی دعا کو حاصل کرنے کے لئے میں نے یہ کیا تھا۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص۱۴۵)