Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
53 - 108
 ارشاد فرمایا :تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق کومنافق ہی ہلکا جانے گا:(۱)جسے اسلام میں بڑھاپا آیا (۲)عالمِ دین اور (۳)انصاف پسند بادشاہ۔(المعجم الکبیر،۸/۲۰۲،حدیث:۷۸۱۹)
 بادشاہی تو اِسے کہتے ہیں (حکایت)
	خلیفہ ہارون رشید اپنے لشکر کے ساتھ شہر رِقَّہ میں پڑاؤ کئے ہوئے تھا، حضرت سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ بن مبارک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا وہاں سے گزر ہوا تو اس قدر ہجوم ہوا کہ لوگوں کی جوتیاں ٹوٹنے لگیں اور اُفق غبار آلود ہو گیا، خلیفہ کی ایک کنیز محل کے بُرج سے یہ عظیم الشان منظر دیکھ رہی تھی ، حیرانی کے عالم میں پوچھنے لگی: یہ کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ خراسان شہر کے عالم حضرت سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ بن مبارک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ رِقَّہ تشریف لائے ہیں اوریہ تمام افراد ا ُن کے استقبال کے لئے جمع ہوئے ہیں ، یہ سن کر وہ کنیز بے ساختہ پکار اٹھی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم! بادشاہی تواسے کہتے ہیں ، ہارون کی حکومت کیا ہے اس کے لئے تو لوگ حکومتی کارندوں کے دباؤ میں آ کر جمع ہوتے ہیں۔(تاریخ بغداد،۱۰/۱۵۵)
 شُرَفا کی عزت اوراہلِ علم کی تعظیم وتوقیر کرنا
  	کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، سِراجُ الْاُمّۃ،کاشِفُ الغُمَّۃ،امامِ اعظم،فَقیہِ اَفْخَم حضرت سیِّدُنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنے شاگردِ رشید امام ابو یوسف رحمۃ اللّٰہ تعالی علیہ کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے