ایمان تازہ ہوگیا ۔آپ انتہائی سادہ مگر صاف وشفاف لباس زیب تن کئے اور سبز عمامہ کا تاج سجائے ہوئے تھے، آپ کے چہرے پر بزرگی کے آثار نمایاں نظر آرہے تھے ، پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں نے سر کی آنکھوں سے دیدارِامیرِ اہلسنّت کا شرف پایا ، دولتِ دیدار ملنے کے بعد نسبت ِعطار سے مشرف ہونے کے لئے بے قرار ہوگیا اور جلد ہی آپ دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستہ ہوکر عطاری بن گیا ۔ نسبتِ عطار حصے میں کیا آئی میری زندگی میں سنتوں کی بہار آگئی ، چہرے پر داڑھی سجالی ، سر پر سبز عمامہ شریف پہن لیا اور مدنی حلیہ بھی اپنا لیا تادمِ تحریر شہر مشاورت میں مدنی انعامات کا ذمہ دار ہوں اور مدنی کام کرنے کے لئے کوشاں ہوں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(13) علما کا حق نہ پہچاننے والا میری امت سے نہیں
رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ و سلَّم کا فرمان ہے: لَیْسَ مِنْ اُ مَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَیَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّہیعنی جو ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچا نے ، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کر ے اورہمارے علما کا حق نہ پہچانے(یعنی ان کا احترام نہ کرے)وہ میری امت سے نہیں۔ (مسند احمد،مسند الانصار،۸/۴۱۲،حدیث:۲۲۸۱۹)
تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق کومنافق ہی ہلکا جانے گا
مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ و سلَّمنے