کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں۔(جامع الاحادیث،۶/۱۹۰،حدیث:۱۸۰۹۶)
قیمت بڑھ جانے پر بھی نہ بڑھائی
حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘ (ایک پیمانے کانام) 60 دینار میں خریدا اور اپنے روزنامچے (ہرروزکے حساب لکھنے کی کتاب ) میں اس کا نفع تین دینار لکھ دیا ، گویا کہ انہوں نے ہر دس دینار پر صرف آدھا دینار نفع لینا بہتر خیال فرمایا ۔ کچھ ہی دنوں میں باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘90 دینار کا ہو گیا ۔ دَلّال (کمیشن ایجنٹCommission Agent/) آیا اور اس نے بادام طلب کئے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : لے لو ! ۔ اُس نے پوچھا : کتنے کے ؟ فرمایا : 63 دینار کے ۔ دَلاّل بھی نیک لوگوں میں سے تھا ، اس نے کہا : اس وقت یہ بادام 90 دینار کے ہو چکے ہیں ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : میں نے ایک عہد کیا ہے جسے میں ہرگز نہیں توڑ سکتا ، لہٰذا میں انہیں63 دینار میں ہی فروخت کروں گا ۔ دلّال نے جواب دیا : میں نے بھی اپنے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مابین اس بات کا عہد کررکھا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکا نہیں د وں گا ۔ اس لئے میں آپ سے یہ بادام90دینار میں ہی خریدوں گا ۔(احیاء علوم الدین ، ۲ /۱۰۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو مسلمانوںکا خیر خواہ بنائے ،اس کو نقصان پہنچانے یا دھوکہ دینے سے بچائے ۔ جو خوش نصیب دعوتِ