مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :جو شخص کسی مسلمان پرتلوار سونت لے اگر چہ اس کے قتل کا اِرادہ نہ بھی کرے تب بھی مسلمانوں کی جماعت (یعنی طریقے)سے خارج ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کا سا کام نہ کیا، مسلمان پر ظلماً ہتھیار اٹھانا بھی حرام ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح،۵/۲۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(10)جو برائی سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ِعالیشان ہے:لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْکَبِیْرَنَا وَیَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَریعنی جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ،ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ، اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں۔
(ترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان،۳/۳۶۹، حدیث: ۱۹۲۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیث ِپاک کے اِس حصے (جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ،ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے )کے تحت فرماتے ہیں: یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے،چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو خواہ علم کی خواہ درجہ کی !یہ فرمان بہت عام ہے۔خیال رہے صَغِیْرَنَا اورکَبِیْرَنَا فرماکر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا