عُرف(یعنی رواج)ہے،تو کیا لینے والا بھی گنہگار ہے ؟
جواب:جی ہاں!اگر تول کے نام پر اندازے سے خریدا تو لینے والا بھی گنہگار ہے۔ اس سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جو چیزیں تول کے نام پر بِغیر تولے آج کل دی جاتی ہیں وہ آپ تول کے نام پر نہ مانگیں بلکہ اس کی قیمت کہدیں مَثَلاً کہیں، مجھے5روپے کی دہی دے دو یا 12روپے کا قِیمہ دیدو۔ اب وہ جس طرح بھی دے، دونوں گناہ سے بچ گئے۔(ایضا)
عمدہ گوشت کی پہچان
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ’’فیضانِ سنت ‘‘کے باب آدابِ طعام میں عمدہ گوشت کی پہچان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:بوڑھا گوشت لال ہوتا ہے،جبکہ جوان گوشت مِٹیالے (بُھورے) رنگ کا اور اس میں عُمُوماً چربی کم ہوتی ہے ۔ بُھورا گوشت زیادہ اچّھا ہوتا ہے۔ گھر کے لئے آخِری بچا ہوا گوشت خریدنا مُفید ہوسکتا ہے کیوں کہ بیچنے والے جلدی جلدی چربی اور ہڈّیاں تول میں چلا دیتے ہیں اوریوں آخِر کے بچے ہوئے گوشت میں بوٹی زیادہ ہوتی ہے!سبزیو ں اور پھلوں کا مُعامَلہ اِس سے اُلَٹ ہے کہ تازہ اورعُمدہ جلدی جلدی بک جاتے اور آخِر میں گلے سڑے بچ رہتے ہیں۔ان معنوں کریہ مَقُولہ دُرُست ہے کہ سبزی اور پھل شُروع میں اور گوشت آخِر میں خریدو۔(فیضان سنت ،ص۵۹۴)