Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
43 - 108
 آج جو یہ تحقیقات حکام کرتے ہیں یہ حدیث سے ثابت ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ تجارتی چیز میں عیب پیدا کرنا بھی جرم ہے اور قدرتی پیدا شدہ عیب کو چھپانا بھی جرم۔ 
(مراٰ ۃ المناجیح،۴/۲۷۲،ملخصاً)
گوشت فَروشوں کیلئے اِحتِیاطیں
	شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: اکثر گوشت بیچنے والے آج کل بَہُت ساری غَلَطیاں کرکے گناہ کماتے اور اپنی روزی خراب کرڈالتے ہیں۔ مِنجُملہ برف خانے کے نکالے ہوئے باسی گوشت کو تازہ کہہ کر فروخت کرنا، ڈھانڈے (بوڑھے بیل)یا بوڑھی بھینس یابوڑھے بھینسے کے گوشت کو بچھیا (یعنی نو عمر گائے) کا گوشت کہہ کربیچنا یابڈّھی گائے یا بچھڑے کی ران پر کسی اور بچھیا کے چھوٹے چھوٹے تھن لگا کر دھوکہ دے کر فروخت کرنا،جن ہڈّیّوں اورچھیچھڑوں کو پھینک دینے کا عُرف(رَواج)ہے اُن کو دھوکے سے وَزن میں چلا دینا، گوشت یا قیمے کو بِغیر تولے صرف اندازے سے تول کے نام پر دینا،(مَثَلاً کسی نے آدھ پاؤ قیمہ مانگا تومُٹّھی میں لیکر وزن کئے بِغیر ہی بطورِ آدھ پاؤ دے دیا)وغیرہ گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام ہیں۔(فیضان سنت، ص۵۹۹)
اندازے سے تولنے کی مُمانَعَت
	سُوال:ابھی آپ نے قیمہ اندازے سے تو لنے کی مُمانَعت فرمائی ۔ اس میں تو آزما ئش ہے کیوں کہ کئی چیزیں آج کل اندازے سے ہی تول کر دینے کا