Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
42 - 108
 تجارتی چیز کا عیب چھپانا گناہ ہے(حکایت )
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :ایک بار حضورِ اَنورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم غلہ کے بازار میں تشریف لے گئے تو کسی دکان پر گندم یا جو یا کسی اور غلہ کا ڈھیر تھا،حضورِ اَنورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس ڈھیر میں اپنا ہاتھ شریف داخل کیا تو پتہ لگا کہ ڈھیر کے اوپر تو غلہ سوکھا ہوا ہے مگر اندر سے گیلا ہے تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:’’ گیلے غلہ کو تو نے ڈھیر کے اوپر کیوں نہ ڈالا تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘غالبًا دکاندار کو یہ خبر نہ تھی کہ یہ بھی جرم ہے،وہ سمجھے تھے کہ خود گیلا کرنا گناہ ہے جو بارش سے قدرتی طور پر گیلا ہوجائے اس میں ہمارا کیا گناہ؟لہٰذا اس سے ان صحابی کا فسق ثابت نہیں ہوتا، نیز گناہ کرلینا اور چیز ہے فسق کچھ اور یہ گناہ تھا جس سے توبہ ہوگئی اگر اس گناہ پر جم جاتے توبہ نہ کرتے تو فسق ہوتا،رب تعالیٰ فرماتاہے: 
وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۳۵﴾ (پ۴،آل عمران:۱۳۵)
ترجمہ کنزالایمان:اور اپنے کئے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں ۔
	اس واقعہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تجارتی چیز کا عیب چھپانا گناہ ہے بلکہ خریدار کو عیب پر مطلع کردے کہ وہ چاہے تو عیب دار سمجھ کر خریدے چاہے نہ خریدے۔دوسرے یہ کہ حاکم یا بادشاہ کا بازار میں گشت کرنا،دکانداروں سے ان کی چیزوں کی،باٹ ترازو کی تحقیقات کرنا،قصور ثابت ہونے پر انہیں سزا دینا سنت ہے،