Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
41 - 108
 مدینہ یعنی جس نے مسلمانوں کو یا اہلِ عرب کو اہلِ مدینہ کو دھوکہ دیا وہ ہماری جماعت سے نہیں۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/ ۲۵۴)
دھوکا کسے کہتے ہیں؟
	حضرت علامہ عبدالرء ُو ف مَناویعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی ’’فَیضُ الْقَدِیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں لکھتے ہیں:اَلْغِشُّ سَتْرُ حَالِ الشَّیْئِیعنی کسی چیز کی(اصلی) حالت کو پوشیدہ رکھنا دھوکا ہے۔(فیض القدیر،۶/۲۴۰،تحت الحدیث:۸۸۷۹) تیسری صدی ہجری کے جلیل القدر محدث،فقیہ اور کثیر کتابوں کے مصنف حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اسحٰق بغدادی حَرْبی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی لکھتے ہیں :فَالغِشُّ أَنْ یُظْہِرَ شَیْئًا وَیَخْفِیَ خِلاَفَہُ أَوْ یَقُولَ قَوْلاً ویَخْفِیَ خِلاَفَہُ یعنی دھوکا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کو ظاہر کرے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقت) کو چھپائے یا کوئی بات کہے اور اس کے خلاف (یعنی حقیقی بات) کو چھپائے۔(غریب الحدیث للحربی،۲/۶۵۸) مثلاًکسی عیب دار چیز کو اس کا عیب چھپا کر بیچنا، جعلی یا ملاوٹ والی چیزوں کواصلی اور خالص کہہ کر بیچنا وغیرہ ۔
گوشت کوپھونک کر موٹا نہ کرو
	حضرت ِسیِّدُنا علیُّ المرتضی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیمنے گوشت فروشوں سے ارشاد فرمایا:یَامَعْشَرَالْقَصَّابِیْنَ لَا تَنْفِخُوْا،فَمَنْ نَفَخَ اللَّحْمَ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی اے گوشت فروشو!گوشت کو پُھونک کر موٹانہ کرو جس نے ایسا کیا وہ ہم سے نہیں۔
(کنزالعمال،کتاب البیوع،قسم الافعال،۲/۶۵،جزئ۴،حدیث:۹۹۶۵)