Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
40 - 108
  میں بصورت سوال جواب تحریر فرماتے ہیں :
ٍ	سُوال:آج کل عامِل کی باتوں میں آ کر رشتے دار ایک دوسرے کے بارے میں جادو کابُہتان رکھ دیتے ہیں یہ کیسا ہے؟
	جواب:کسی مسلمان پر بُہتان رکھنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ عامِل کے بتانے یا خواب یا فال یااِستخارے کے ذَرِیعے پتا چلنے کو شَرعی ثُبُوت نہیں کہتے کہ جس کو بنیاد بنا کر کسی مسلمان کی طرف ان گناہوں کو منسوب کیاجا سکے۔یہاں شرعی ثُبوت یہ ہے کہ یا تو ملزَم خود اِقرار کرلے کہ میں نے جادو کیا یا کروایا ہے، یا دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورَتیں گواہی دیں کہ ہم نے اِس کو خود جادو کرتے یا کرواتے دیکھا ہے۔(پردے کے بارے میں سوال جواب،ص۳۹۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(8)مسلمان کو دھوکا دینے والا ہم سے نہیں
	اللّٰہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزّہٌ عنِ العُیُوبصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّایعنی جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں۔(مسلم،کتاب الایمان، باب قول النبی ۔۔۔الخ، ص۶۵، حدیث: ۱۰۱)
 	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :غَشَّنَا میں ضمیرِ متکلِّم سے مراد سارے مسلمان ہیں یا اہلِ عرب یا اہلِ