Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
36 - 108
 مخصوص عمل کے ذریعے عام عادت کے خلاف کوئی کا م کرناجادو کہلاتا ہے۔
 (شرح المقاصد، المقصد السادس، الفصل الاول فی النبوۃ، ۵/۷۹)
بنی اسرائیل کو جادو سیکھنے سے روکا (حکایت )
	حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکال کر لوگوں سے کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں اور علما نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جاہل لوگ جادو کو حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا علم مان کر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے، انبیاء کرامعَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر ملامت شروع کی۔ہمارے آقا محمد مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے زمانے تک یہی حال رہا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضور اقدسصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے ذریعے حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی جادو سے بَرَاٗءَ ت کا اِظہار فرمایا۔  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲،۱ ؍۷۳)
	تفسیر صراط الجنان میں ہے :جادو فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کے درمیان امتیاز کرنے اور لوگوں کی آزمائش کے لیے نازل ہوا ہے،جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل