Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
34 - 108
نے پوچھا: تجھے کیا خبر؟ اس نے کہا کہ جب میرا گدھا اپنی دم تین بار ہلاتا ہے تو سخت بارش ہوتی ہے ،آج اس نے دم ہلائی ہے۔ چنانچہ کچھ دیر بعد تیز بارش آگئی ۔ تب یہ نادم ہوا کہ واقعی گدھے بھی علم نجوم والے سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں ۔ ہوا میں اڑنا ، دریا پر چلنا ، بڑاعالم ہو جانا کوئی کمال نہیں ۔ مکھی بھی اڑتی ہے ، مچھلی بھی تیرتی ہے ، چیل آندھی کو اور مینڈک بارش کو پہلے سے ہی معلوم کر لیتے ہیں یہ اوصاف جانوروں میں بھی ہیں بڑا علم شیطان کو بھی تھا ۔ تصوُّف اور فقیری اطاعتِ مصطفی علیہ السلام سے حاصل ہوتی ہے ۔
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا	 تصور میں ترے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گم ہونا	حقیقت معرفت اہلِ طریقت اس کو کہتے ہیں
		
 (تفسیر نعیمی ،۱/۵۱۵)
 نُجومی کو ہاتھ دکھانا 
	بہت سے لوگ کاہنوں، نُجومیوں، پروفیسروں اور رَمل و جَفَر کے جھوٹے دعویداروں کے ہاں جا کر قسمت کاحال معلوم کرتے ہیں،اپنا ہاتھ دکھاتے ہیں، فالنامے نکلواتے ہیں ،پھر اس کے مطابق آئندہ زندگی کا لائحہ عمل بناتے ہیں ۔اس طرزِ عمل میں نقصان ہی نقصان ہے چنانچہ امامِ اہلسنّت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :کاہِنوں اور جَوتِشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا بُرا دریافت کرنا اگر بطورِ اِعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے ،اسی کو حدیث میں فرمایا: