اوربہت سے اِنعام و اِکرام سے بھی نوازا۔
بَدشگونی کے نقصانات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بَدشگونی انسان کے لئے دینی و دُنیوی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ خطرناک ہے ۔یہ انسان کو وسوسوں کی دَلدل میں اُتار دیتی ہے چنانچہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے ڈرنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پَرچھائی (یعنی سائے)سے بھی خوف کھاتا ہے۔ وہ اس وَہم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی ساری بَدبختی وبَدنصیبی اسی کے گِرد جمع ہوچکی ہے اور دوسرے لوگ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا شخص اپنے پیاروں کو بھی وہمی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے دلوں میں کَدُورَت(یعنی دشمنی) پیدا ہوتی ہے ۔ بَدشگونی کی باطنی بیماری میں مبتلا انسان ذہنی وقلبی طور پر مَفْلُوج(یعنی ناکارہ) ہوکر رہ جاتا ہے اور کوئی کام ڈَھنگ سے نہیں کرسکتا ۔ امام ابوالحسن علی بن محمد ماوردی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:اِعْلَمْ اَ نَّہ لَیْسَ شَیْئٌ اَضَرَّ بِالرَّأْئیِ وَلَا اَ فْسَدَ لِلتَّدْبِیرِ مِن اِعتِقَادِ الطِّیَرَۃِ جان لو! بَدشگونی سے زیادہ فِکْر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں ہے ۔(ادب الدنیا والدین،ص ۲۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(6) کہانت کرنے کروانے والا ہم سے نہیں
رسولِ اکرم ،نُورِمُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَاَوْ تُطُیِّرَلَہ اَوْ مَنْ تَکَہَّنَ اَوْ تُکُہِّنَ لَہ اَوْ مَنْ سَحَرَ اَوْسُحِرَ لَہُ