Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
29 - 108
 کسی مقصد میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ یہ جملہ کہتا ہے :آج صبح سویرے نہ جانے کس منحوس کی شکل دیکھی تھی؟حالانکہ انسان صبح سویرے بستر پر آنکھ کھلنے کے بعد سب سے پہلے اپنے ہی گھر کے کسی فرد کی شکل دیکھتا ہے، تو کیا گھر کا کوئی آدمی اس قدر منحوس ہوسکتا ہے کہ صِرْف اس کی شکل دیکھ لینے سے سارا دن نُحوست میں گزرتا ہے؟کسی کو منحوس کہنے پر بعض اوقات شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ،ایک سبق آموز حکایت سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ، چنانچہ ایک بادشاہ اور اس کے ساتھی شکار کی غرض سے جنگل کی جانب چلے جارہے تھے۔ صبح کے سناٹے میں گھوڑوں کی ٹاپیں صاف سنائی دے رہی تھیں جنہیں سنتے ہی اکثر راہگیرراستے سے ہٹ جاتے تھے کیونکہ بادشاہ سلامت شکار پر جاتے ہوئے کسی کا راستہ میں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کی سواری بڑے طُمْطُراق (یعنی شان وشوکت)سے شہر سے گزررہی تھی ، جونہی بادشاہ شہر کی فَصِیل(چار دیواری) کے قریب پہنچا اس کی نگاہ سامنے آتے ہوئے ایک آنکھ والے شخص پر پڑی جو راستے سے ہٹنے کے بجائے بڑی بے نیازی سے چلا آرہا تھا۔اسے سامنے آتا ہوا دیکھ کر بادشاہ غصے سے چیخا:’’ اف! یہ تو انتہائی بَدشگونی ہے۔ کیا اس بَدبخت کا نے(یعنی ایک آنکھ والے ) شخص کو عِلْم نہیں تھا کہ جب بادشاہ کی سواری گزررہی ہو تو راستہ چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن اس منحوس یک چشم نے تو ہمارا راستہ کاٹ کر انتہائی نُحوست کا ثبوت دیا ہے۔‘‘بادشاہ سپاہیوں کی جانب مُڑا اور غصے سے چیخا:’’ ہم حکم دیتے ہیں کہ اس ایک آنکھ والے شخص کو ان سُتونوں سے باندھ