Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
28 - 108
(5) بد شگونی لینے والا ہم سے نہیں
	سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَاَوْ تُطُیِّرَلَہ اَوْ مَنْ تَکَہَّنَ اَوْ تُکُہِّنَ لَہ اَوْ مَنْ سَحَرَ اَوْسُحِرَ لَہُ یعنی جس نے بد شگونی لی یا جس کے لئے بد شگونی لی گئی ،یا جس نے کہانت  کی یا جس کے لئے کی گئی ،یا جادو کرنے اور کروانے والا ہم سے نہیں۔ (مسند بزار،اول حدیث عمران بن حصین،۹/۵۲،حدیث:۳۵۷۸)
بد شگونی کی تعریف اور اسکی قسمیں
	شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز ،شخص، عمل،آواز یا وَقْت کو اپنے حق میں اچھا یابُرا سمجھنا ۔ اس کی بنیادی طور پردو قسمیں ہیں : (۱) بُرا شگون لینا (۲)اچھا شگون لینا۔علامہ محمد بن احمد اَنصاری قُرطبی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویتفسیرِ قُرطبی میں نَقْل کرتے ہیں:اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا اِرادہ کیا ہو اس کے بارے میں کوئی کلام سن کردلیل پکڑنا،یہ اس وَقْت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر بُرا ہو تو بَد شگونی ہے۔ شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خو شی خو شی پایۂ ِتکمیل تک پہنچائے اور جب بُراکلام سُنے تو اس کی طرف توجُّہ نہ کرے اورنہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔
(الجامع لاحکام القراٰن،پ۲۶، الاحقاف،تحت الاٰیۃ:۴،۸/۱۳۲،جزء۱۶)
نہ جانے کس منحوس کی شکل دیکھی تھی؟
	بَدشگونی کی عادتِ بَد میں مبتلا شخص کو جب کسی کام میں نقصان ہوتا ہے یا