زمین سے لا دعویٰ ہوگیا۔ (مراۃُ المناجیح ،۵/۴۰۳)
زمین پر قبضے کا حکم شرعی
اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے ’’فتاوی رضویہ‘‘ شریف میں اس موضوع سے متعلق ایک سوال ہوا:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اراضی مسجد کی جو اس کے پیچھے تھی اپنے مکان میں ڈال لی ہے اور دیوار بنوالی، اور تاج محراب مسجد ومینار مسجد دباکر اپنی دیوار بلند کرلی، ایسے شخص کے واسطے کیاحکم شرع شریف ہے ؟ فقط
الجواب:فاسق، فاجر، ظالم،جائر، مرتکب کبائر، مستحق عذاب النا ر وغضب الجبار ہے، وَالْعِیَاذُبِاللّٰہِ تَعَالٰی۔خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :جو شخص ایک بالشت بھر زمین ناحق لے گا اللّٰہ تعالٰی وہ زمین، زمین کے ساتوں طبقوں تک اس کے گلے میں قیامت کے دن تک طوق بناکر ڈالے گا۔(مسلم،کتاب المساقاۃ،باب تحریم الظلم ۔۔۔الخ،ص۸۷۰،حدیث:۱۶۱۱)
رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم