ہوتاہے ۔ ایک لشکر واپس آکر بتاتا ہے کہ میں نے فلاں فتنہ برپا کیا تو شیطان کہتا ہے : تونے کچھ بھی نہیں کیا۔پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے :میں نے ایک آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی ۔یہ سن کر ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے :تُوکتنا اچھا ہے !اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے ۔(مسلم،کتاب صفۃ القیامۃ۔۔۔الخ،باب تحریش الشیطان۔۔۔الخ، ص۱۵۱۱،حدیث:۲۸۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(4) ناحق قبضہ جمانے والا ہم سے نہیں
سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمان ہے:مَنِ ادَّعٰی مَا لَیْسَ لَہٗ فَلَیْسَ مِنَّا وَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِیعنی جو کوئی اس چیز کا دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں اوروہ اپنا ٹھکانہ آگ میں ڈھونڈے۔
( ابن ماجہ،کتاب الاحکام،باب من ادعی۔۔۔الخ،۳/۹۵،حدیث:۲۳۱۹)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی جھوٹا مدعی دو گناہ کرتا ہے،(۱) جھوٹ بولنا اور(۲) دوسرے کے حق مارنے کی کوشش کرنا لہٰذا وہ ہمارے طور طریقہ سے نکل جاتا ہے ۔مومن کو ان عیوب سے پاک و صاف ہونا چاہیے، ’’ڈھونڈے‘‘ امر بمعنی خبر ہے یعنی وہ آگ کا مستحق ہے۔(مراٰ ۃ المناجیح ،۵/۳۹۷)