Brailvi Books

وہ ہم میں سے نہیں
105 - 108
 صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم غُسل کے بعد وُضو نہیں فرماتے۔(ترمذی،ابواب الطہارۃ،باب ماجاء فی الوضوء بعد الغسل،۱/ ۱۶۱،حدیث: ۱۰۷)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :کیونکہ غسل سے پہلے وضو فرمالیتے تھے وہ وضو نماز کے لیے کافی ہوتا تھا‘ بلکہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کیے بھی غسل کرے اور پھر نماز پڑھ لے تو جائز ہے کیونکہ طہارتِ کبریٰ ( یعنی غسل)کے ضمن میں طہارتِ صغریٰ ( یعنی وضو)بھی ہوجاتی ہے اور بڑے حدث کے ساتھ چھوٹا حدث بھی جاتا رہتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۱/۳۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
وضو میں پانی کا اِسراف مکروہ ہے
	اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:وضو میں پانی کا اِسراف مکروہ ہے خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوک پانی ہو، اور جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کیلئے وقف ہوتا ہے، جس میں مَدارِس کا پانی بھی شامل ہے، اس کا اِسراف حرام ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کیلئے وقف ہے جو شرعی وضو کرنا چاہتے ہیں، اور دوسروں کیلئے مباح نہیں ہے۔(فتاوی رضویہ،۲ /۴۸۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد