میں کسی کو ستاؤں یا ستایا جائوں ۔(ابوداؤد،کتاب الوتر،باب فی الاستعاذۃ،۲/۱۳۰،حدیث:۱۵۴۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ذلت سے مراد لوگوں کی نگاہ میں حقارت ہے یا مالداروں کے سامنے عاجزی۔(مراٰۃ المناجیح ،۴/ ۶۱)
متکبر کے ساتھ تکبر بھی تواضع ہے
حضرت سیِّدُنا ابو نصربشر بن حارث(المعروف بشر حافی) رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہکا فرمان ہے:متکبر کے ساتھ تکبر سے پیش آنا بھی تواضع کی ایک قسم ہے۔
(المستطرف،الباب الثلاثون،۱/۲۵۱)
جس امر میں مسلمانوں کو ذلت پہنچے اس کا ترک واجب ہے
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرمایا:جس مباح کے ترک(چھوڑنے) میں مسلمانوں کے لئے ذلت ہو وہ واجب ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کو ذلت پہنچانا حرام تو جس امر(کام) میں مسلمانوں کو ذلت پہنچے اس کا ترک(یعنی چھوڑنا) واجب ہے۔(ملفوظات اعلی حضرت ،ص۴۵۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد