کے بس میں نہ رہے گا بد قسمتی سے کافی حد تک وہ اپنے اس ناپاک منصوبے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں ۔
شرم و حیا کے پیکر، نبیوں کے سرور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کلمہ پڑھنے والے میرے پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھو! حقیقی ترقی ان یورپین خرافات میں نہیں بلکہ اسلامی برکات میں ہے ۔
مغربی معاشرے کی مادر پدر آزاد ی کی یہ جھلکیاں اس لئے نقل کی ہیں تاکہ جو لوگ یہ کہہ کر سمجھانے والوں سے جان چھڑا لیتے ہیں کہ ’’تھوڑا بہت تو چلتا ہے، تہوار ہی تو ہے، ایک ہی دن کی تو بات ہے، ہم کونسے پاک و صاف ہیں ‘‘ اس طرح کے بیباکی اور ناانصافی کے ساتھ جملے ادا کرنے والوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ دین سے محبت اور اس کے احکام اور مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دیئے ہوئے نظام کے مطابق زندگی گزارنے سے محبت کرنے والا طبقہ ان کے بھلے کی بات کر رہا ہے اگر وہ آج ہنس ہنس کر گناہ کریں گے تو کل ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد ان مصائب اور گناہوں کی نحوست کی بناء پر دنیا میں بھی آفات کا شکار ہو گی اور آخرت کی تباہی اس پر مزید ہوگی۔
پیارے اسلامی بھائیو! آپ سے اتنی گزارش آخر میں ضرور کرونگا کہ غیر مسلم تو ہمارے نبی مکرم و محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین کے در پے ہوں اور آئے دن مسلمانوں کے دلوں کو توہین آمیز خاکوں سے چھلنی کریں اور مسلمان جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ سرکار کے نام پر جان بھی قربان ہے اور ہر بے ادب کی بے ادبی اور شرارت پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں اور حقیقتاً اور ایماناً ایسا ہونا بھی چاہئے کہ ہماری عقیدتوں اور محبتوں