زیادہ کتے بلیوں کو فرمانبردار سمجھنے لگیں ۔
جہاں ایسے واقعات عام ہوں کہ متعدد اولاد رکھنے کے باجود ماں یا باپ تنہا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجائے، جب لاش سے تعفن اٹھے تو پڑوسیوں کے ذریعہ اولاد کو اس کی موت کا علم ہو۔
یہ ہے ترقی یافتہ دنیا کی آزادی اور ترقی کا مختصر خاکہ(1)
غور کیجئے! اس قسم کے آزاد معاشرے اور اس میں جنم لینی والی برائیوں سے مسلم معاشرہ کیوں محروم ہے اس فکر میں مغربی مفکرین اور اسلام دشمن قوتیں ہر لمحہ مصروف رہتی ہیں اور ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ جیسے دنوں کے نام پر اپنی ان خرافات سے مسلم دنیا کو بھی روشناس کرانا چاہتی ہیں اور جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں اکثر مسلمان دین سے اور دینی تعلیمات سے دور ہیں اور نفس و شیطان کے مکر و فریب میں بآسانی مبتلا ہوجاتے ہیں اس لئے ایک ایک دن کی حد تک ہی سہی جب ہماری طرح جدت و لذت کے نشہ میں مدہوش ہو کر بے حیائی و بے پردگی اور وہ بھی سرعام کریں گے تو پھر ا س لت سے پیچھا چھڑانا ان کے لئے مشکل ہوجائے گا اور آہستہ آہستہ یہ برائیاں ان کے معاشرے میں بھی جڑ پکڑ لیں گی اور دیمک کی طرح اسے چاٹتی رہیں گی چونکہ دینی و روحانی پاکیزگی سے روشناس کرانے والے علمائے حق جو ان کے معالج بھی ہیں اور رہبر بھی ان سے تو پہلے ہی قوم دور ہے اس لئے ان کا سمجھانے کا ان پر اثر تو کم ہی ہوتا ہے ان بے حیائیوں کے باعث ان سے مزید دور ہوکر ان کی برکات سے مزید محروم ہوجائے گی پھر اس لاعلاج مرض کا علاج ان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مختصراً از آداب زندگی۔