Brailvi Books

ویلنٹائن ڈے( قرآن وحدیث کی روشنی میں)
26 - 33
	یاد رہے! جبکہ شادی شدہ افراد سے اس جرمِ قبیح کے تَحَقُّق کی صورت میں  جبکہ ہر طرح سے یقین و ثبوت ہو اور ضروری شرائط پائی جائیں  تو اس کی سزا بطورِ حد رجم (سنگسار کرنا) ہے جس کی تفصیل کتب ِاَحادیث وفقہ میں  ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
	ابو داؤدکی حدیث ِمبارَکہ میں  ہے: رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اذا زنی الرجل خرج منہ الایمان کان علیہ کالظلۃ فاذا انقلع رجع الیہ الایمان‘‘ جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اور اس پر بادل کی طرح رہتا ہے پھر جب وہ اس حرکت کو چھوڑتا ہے تو اس کا ایمان لوٹ آتا ہے۔(1)
	مسند امام احمد بن حنبل میں  ہے: ’’ ثلاثۃ لا یکلمھم اللّٰہ یوم القیامۃ ولا ینظر الیہم و لا یزکیھم و لھم عذاب الیم: شیخ زان وملک کذاب وعائل مستکبر‘‘ ترجمہ :یعنی تین قسم کے لوگ وہ ہیں  جن سے قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کلام نہیں  فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور عیال دار تکبر کرنے والا۔(2)
	 امام محمد بن احمد ذہبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : زنا کار لوگوں کو شرمگاہوں کے ساتھ جہنم میں  لٹکایا جائے گا اور لوہے کے گرزوں کے ساتھ مارا جائے گا۔ جب وہ اس سزا سے بچنے کے لیے مدد طلب کرے گا تو فرشتے آواز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابو داؤد ، کتاب السنّۃ ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ ، ۴ / ۲۹۳ ، الحدیث: ۴۶۹۰۔
2…مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ، ۳/۵۲۵، الحدیث: ۱۰۲۳۱۔