بعد اعراض کرنا۔(1)
گانے باجے اور موسیقی کی مذمت قرآن و حدیث کی روشنی میں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْتَرِیۡ لَہۡوَ الْحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ (2)
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اللّٰہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
اس آیت میں ’’لَہْوَ الْحَدِیْثِ‘‘ سے متعلق مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے۔
بخاری شریف میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا واضح فرمان موجود ہے: ’’لیکوننّ من امّتی اقوام یستحلّون الحرّ والحریر و الخمر و المعازف‘‘ ترجمہ: ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے۔(3)
مشہور صحابی حضرت عبداللّٰہ ابن ِمسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ فرماتے ہیں : گانے باجے کی آواز دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جیسے پانی نباتات کو اُگاتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ ، الکبیرۃ الثالثۃ و الخمسون بعد المائۃ، ۱/۴۴۵۔
2…پ۲۱،لقمٰن:۶۔
3…بخاری ، کتاب الاشربۃ ، باب ما جاء فیمن یستحلّ الخمر ۔۔۔ الخ ، ۳/۵۸۳، الحدیث: ۵۵۹۰۔