اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ اس کے کندھے ایسی عورت سے ٹکرائیں جو اس کے لئے حلال نہیں۔(1)
شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی شافعی عَلَیْہِ الرَّحْمَہ اپنی کتاب ’’الزواجر عن اقتراف الکبائر‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں ، اس کا ترجمہ ہے: ’’بعضوں نے اپنے ہاتھ کو کسی عورت کے ہاتھ پر رکھا تو ان دونوں کے ہاتھ چمٹ گئے اور لوگ انہیں جدا کرنے میں ناکام ہوگئے یہاں تک بعض علماءِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ وہ عہد کریں کہ ایسی نافرمانی کا اِرتکاب کبھی نہیں کریں گے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر صدقِ دل سے توبہ کریں پس انہوں نے ایسا کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں چھٹکارا عطا فرمایا۔ اور اساف اور نائلہ کا قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے زنا کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان دونوں کو چہرہ مَسخ کرکے پتھر بنا دیا۔
تم یہ دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی شخص نافرمانی کا مرتکب ہونے کے باوجود ابھی تک صحیح وسالم ہے اور اسے جلدی سزا نہیں ملتی عقل مند کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے نفس پر غرور کرے، اپنے نفس پر غرور کرنے والا اچھا نہیں اگرچہ وہ سلامت رہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے لئے سزا کو جلدی مقرر کردے جبکہ دوسروں کیلئے نہ کرے، کیونکہ اسے اس سے روکنے والا کوئی نہیں کہ کبھی بہت شنیع وقبیح چیز کے ساتھ جلدی سزا ہوجاتی ہے جیسے دل کا مَسخ ہونا، بارگاہِ حق میں حاضری سے دوری، ہدایت کے بعد گمراہی اور بارگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونے کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ، کتاب النکاح، ۲/۶۔