سے لوگوں کو ماریں گے اور (دوسری قسم) ان عورتوں کی ہے جو پہن کر ننگی ہوں گی دوسروں کو (اپنی طرف) مائل کرنے والی اور مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ا س کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دور سے پائی جائے گی۔(1)
(4)…نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’لان یعطن فی رأس احدکم بمخیط من حدید خیر لہ من ان یمسّ امرأۃ لا تحلّ لہ۔‘‘ تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گھونپ دی جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں ۔(2)
(5)…نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ایاکم والخلوۃ بالنساء والذی نفسی بیدہ ما خلا رجل بامرأۃ الّا دخل الشیطان بینھما ولان یزحم رجلًا خنزیر متلطخ بطین او حماۃ -ای طین اسود منتن- خیر لہ من ان یزحم منکبہ امرأۃ لا تحلّ لہ۔‘‘عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے سے بچو! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرتا مگر ان کے درمیان شیطان داخل ہوجاتا ہے اور مٹی یا سیاہ بدبودار کیچڑ میں لتھڑا ہوا خنزیر کسی شخص سے ٹکرا جائے تو یہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب النساء الکاسیات العاریات۔۔۔الخ، ص۱۱۷۷، الحدیث: ۱۲۵(۲۱۲۸)۔
2…معجم کبیر، ابو العلاء یزید بن عبد اللّٰہ۔۔۔ الخ، ۲۰/۲۱۱، الحدیث: ۴۸۶۔