قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ؕ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿۳۶﴾ؕ (1)
مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللّٰہ ورسول کچھ حکم فرمادیں تو انھیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللّٰہ اور اسکے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی بہکا۔
مذکورہ آیاتِ قرآنیہ میں اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت نے مؤمنین مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور پردہ کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ عورتوں کو جاہلیتِ اُولیٰ کی بے پردگی سے منع کیا گیا یہاں تک کہ زیور کی آواز بھی غیر مرد نہ سنے، اس کا لحاظ رکھنے کا فرمایا گیا اور آخری آیت جو ذکر کی گئی اس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مرد و عورت کے لئے اختیار باقی نہیں رہ جاتا اس کا واضح اعلان فرما دیا گیا تو کیا مسلمانوں کو ان احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان مرد و عورتیں ویلنٹائن ڈے میں ان احکامات کی اعلانیہ کھلم کھلا کافروں کی تقلید میں خلاف ورزیاں کرتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ عقل دے، سمجھ دے، احکامِ شریعت کی اتباع میں زندگی بسر کرنے کی توفیق دے ۔
شرم و حیا کا درس اور بے حیائی کی مذمت اَحادیث ِمبارَکہ سے
(1)…مشکوٰۃ المصابیح میں ہے: ’’وعن الحسن مرسلًا قال: بلغنی أنّ رسول
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…پ۲۲،الاحزاب:۳۶۔