Brailvi Books

تذکرہ مُجَدِّدِ اَلْفِ ثانی
2 - 42
نقشبندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی ولادت باسعادت (BIRTH)   ہِند کے مقام ’’ سرہند ‘‘ میں 971ھ /  1563ء کو ہوئی۔   (زُبْدَۃُ الْمَقامات ص۱۲۷ماخوذاً)   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا نام مبارک:  احمد،  کنیت:  ابو البرکات اورلقب:   بدرالدین ہے۔   آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہامیرالمؤمنین  حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد میں سے ہیں ۔  
قلعے کی تعمیر اورپانچویں جَدِّ امجد کی برکت    (حکایت)  
       حضرت  سیِّدُنا مجدّدِاَلف ثانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پانچویں جَدِّ امجد حضرت سیِّدُنا    ا مام رفیع الدین فاروقی سہروردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیحضرت سیِّدُنا مخدوم جہانیاں جہاں گشت سیّد جلال الدین بخاری سہروردیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (وفات:   785ھ)   کے  خلیفہ تھے۔   جب یہ دونوں حضرات ہند تشریف لائے اورسرہند شریف سے  ’’ موضع سرائس ‘‘ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے درخواست کی کہ ’’ موضع سرائس‘‘  اور ’’ سامانہ‘‘   کا درمیانی راستہ خطرناک ہے،   جنگل میں پھاڑ کھانے والے خوفناک جنگلی جانور ہیں ،   آپ     (وقت کے بادشاہ )  سلطان فیروز شاہ تغلق کو ان دونوں کے درمیان ایک شہر آباد کرنے کا فرمائیں تاکہ لوگوں کوآسانی ہو۔  چنانچہ حضرت سیِّدُنا شیخ امام رفیع الدین سہروردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بڑے بھائی خواجہ فتح اللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے سلطان فیروز شاہ تغلق کے حکم پر ایک قلعے کی تعمیر شروع کی،   لیکن عجیب حادثہ پیش آیا کہ ایک دن میں جتنا قلعہ تعمیر کیا جاتا دوسرے دن وہ سب ٹوٹ پھوٹ کر گر جاتا،    حضرت سیِّدُنامخدوم سیّد جلال الدین بُخاری